رکن اسمبلی نے ابھی اپنے بارے میں پتے نہیں کھولے،جلدہوگامستقبل پرفیصلہ
چندی گڑھ، 18؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )کرکٹ سے سیاست داں بنے نوجوت سنگھ سدھو کی بیوی نوجوت کور نے آج کہا راجیہ سبھا سے ان کے استعفی کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بی جے پی سے بھی استعفی دے دیا ہے اور ان کے پاس عام آدمی پارٹی میں شامل ہونا ایک واحدمتبادل ہے۔پنجاب میں راجیہ سبھا سے استعفی دے کر بی جے پی کو جھٹکا دینے کے ایک دن بعد ان کی بیوی اور ممبر اسمبلی نوجوت کور نے کہا کہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔امرتسر وسطی اسمبلی حلقہ کی رکن اسمبلی اور شرومنی اکالی دل - بی جے پی حکومت میں چیف پارلیمانی سکریٹری کور نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے(سدھو)واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں انہیں اپنے مستقبل کے منصوبوں کے ساتھ سامنے آنے دیجئے۔انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور عام آدمی پارٹی کی طرف سے خدمت کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔بی جے پی میں اپنے شوہر کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں پوچھے جانے پر کور نے کہاکہ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے راجیہ سبھا چھوڑ دی ہے تو انہوں نے بی جے پی بھی چھوڑ دی ہے۔واپس جانے کا کوئی سوال نہیں ہے، وہ کبھی اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے ۔وہ پنجاب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور وہ ریاست کی خدمت کریں گے۔نوجوت سنگھ سدھو نے نریندر مودی حکومت کی جانب سے کئی گئی اپنی نامزدگی کے تین ماہ بعد ہی کل راجیہ سبھا سے استعفی دے دیا تھا۔عام آدمی پارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اگلے سال پنجاب میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا چہرہ ہو سکتے ہیں۔
کور نے کہا کہ انہیں اپنے مستقبل کے منصوبوں پر فیصلہ کرنا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ میں اپنی پارٹی کے لیے رکن اسمبلی اور سی پی ایس کے طور پر کام کر رہی ہوں۔میں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔نوجوت کا آپشن بالکل صاف ہے۔وہ پنجاب کی خدمت کے لیے واضح ہیں۔اس وجہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے سامنے کیا آپشن ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سدھو کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔قابل ذکرہے کہ نوجوت کور ترقی سمیت مختلف معاملات پر اپنی حکومت کے خلاف سخت رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سدھو کی طرف سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا وقت نکل چکا ہے۔انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ انہوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر بی جے پی 2017کا اسمبلی انتخاب اکالیوں کے ساتھ مل کر لڑنے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ اس کے خلاف ہیں۔جب نوجوت کور سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے سدھو کو کچھ آپشن دئیے ہیں؟تو انہوں نے کہاکہ انہوں نے ان سے بات کی ہوگی۔یہ صرف وہی(سدھو)جانتے ہیں۔انہیں اپنا منصوبہ پریس کانفرنس میں بتانے دیجئے۔انہوں نے کہاکہ میں نے ان سے بات کی ہے ، لیکن کچھ چیزیں ان کی طرف ہی آئیں گی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سدھو کا یہ قدم صحیح ہے ؟تو کور نے کہاکہ وہ ایک روحانی شخص ہیں اور وہ ہر چیز اپنے اندر کی آواز کو سن کر کرتے ہیں۔اگر ان کے اندر کی آواز کہہ رہی ہے کہ انہیں پنجاب کی خدمت بغیر کسی شرط کے اور بغیر کچھ مانگے کرنی ہے، تو ایسا ہونے دیجئے۔ان کے پاس پنجاب کے لیے ایک بہتر نظریہ ہے اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔